جب تمہیں لگے کہ اللہ تمہاری دُعائیں نہیں سُن رہا ؟

دعائیں مانگتے تھک مت جانا تم کبھی یہ مت کہنا کہ ہماری تو رب سنتا ہی نہیں ارے کوئی تو ہے جو سنتا ہے یقین سے مانگو دیکھنا عنقریب کن کہہ دیا جائے گا مایوس وہ ہوتا ہے جو اللہ پر یقین نہیں رکھتا اور محروم وہ ہوتا ہے جو اللہ کی نعمتوں کا شکر ادا نہیں کرتا دعا وہ قبول ہوتی ہے جو یہ سوچ کر مانگی جائے کہ جس سے مانگ رہا ہوں وہ سب دے سکتا ہے یعنی دعا کی قبولیت لازم ہے اور شرط صرف ایک ہے یقین پھر چاہے وہ دعا بارش میں مانگی جائے یا دھوپ میں گھر میں یا سفر میں تمہارا اللہ پر یقین ہی دعا کی قبولیت کا سبب بنتا ہے اے اللہ تیرے کن کی منتظر کچھ دعائیں میرے دل کو بے چین رکھتی ہیں تو ان کو اپنی بارگاہ میں قبول و مقبول فرما ۔آمین ۔ اور پھر ان کہانیوں کا بھی مکمل ہونا دیکھو جن کے مکمل ہونے کا تم تصور بھی نہیں کرسکتے ناممکن اور نامکمل سے کہیں آگے ہے اس کے کن کی رسائی یاد رکھو سجدہ بھی اسی وقت قبول ہوتا ہے جب سر کے ساتھ ساتھ دل بھی جھکے کسی سے محبت کا بہترین طریقہ یہ ہے

کہ اسے اپنی دعاؤں میں ہمیشہ یاد رکھا جائے اور جب اللہ تمہاری دعاؤں پر راضی ہوجاتا ہے تووہ یہ نہیں دیکھتا کہ دنیا اس چیز پر مطمئن ہے یا نہیں اور نہ اس کو اس بات سے کوئی فرق پڑتا ہے کہ اس دعا کی قبولیت میں کتنی رکاوٹیں ہیں وہ جب ارادہ باندھ لیتا ہے تو ناممکن کی ساری گرہیں اپنے آپ کھل جاتی ہیں سوچ اور نیت اگر اچھی ہو تو اللہ بدل دیتا ہے تقدیریں بھی بس حاضری لگنی چاہئے محبوب کو پتہ تو چلے کہ آیا ہے سبق یاد ہے یا نہیں مگر مکتب میں حاضر ہے اور ایسے لوگوں کو پھر اللہ بھی وہاں وہاں سے عطا کرتا ہے جہاں ان کی پہلی حس بھی پہنچ نہیں سکتی یاد رکھو یقین سے ہی دروازے کھلتے ہیں اور جو لوگ تھک کر رک جاتے ہیں اور مایوس ہو کر بیٹھ جاتے ہیں تو اللہ بھی پھر انہیں اٹھنے کی ہمت نہیں دیتا وہ انہیں گرا دیتا ہے ان کی چاہت میں ہی انہیں تھکا دیتا ہے پھر کہتا ہے اور ہو گا وہی جو میری چاہت ہے یاد رکھو اللہ کو بہت پسند ہے جب تم دنیا سے نہیں اس سے مانگتے

ہو جب تم بے بسی کا رونا کائنات کے سامنے نہیں اس کے سامنے روتے ہو جب تم سب ختم ہوجانے کے بعد بھی اس یقین کے ساتھ دعا مانگتے ہو کہ اس کے سوا کوئی تمہیں کچھ نہیں دے سکتا تم کہتے ہو کہ جب وہ مقدر میں ہی نہیں تو پھر دعاکیوں مانگوں میں تم یہ کیوں نہیں سوچتے کہ دینے والا مقدر سے اور تمہارے وسوسوں سے بہت بڑا ہے سلجھ جائے اگر تو ہم کبھی خدا تک نہ پہنچ پائیں تبھی کن کی ڈور کو نصیب کی ڈور سے الجھایا جاتا ہے وہ جانتا ہے ہر ہنسی میں چھپے ہوئے اس درد کو مگر اسے پسند ہے جب اس کا نام پکار کر اسے سب بتایا جاتا ہے پوچھا گیا صبر جمیل کیا ہے جواب آیا تم آزمائے جارہے ہو اور تمہارا دل کہہ رہا ہو الحمد للہ اور ان کے دل پھر مطمئن ہوجاتے ہیں۔اللہ ہم سب کا حامی و ناصر ہو۔آمین

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.