رحم کی رسولی اور پانی کی تھیلیوں کا علاج

ایک دردناک اور اعصاب شکن مرض میں ننانوے فیصد آپریشن کے ذریعے یوٹرس کا نکال دینا ہی علاج تصور کیا جاتا ہے جبکہ طب اس کے متضاد سوچتی ہے پہلے اس مرض کی علامات سمجھ لیجئے کامل تشخیص کیلئے پہلی سیڑھی الٹراساؤنڈ کروانا ہے ۔مریضہ کا بدن ٹوٹنا، پریشان اور کھوئے کھوئے رہنا ، رنگ کا پھیکا پڑجانا،حمل کا ضائع ہوجانا عورت کو حمل کا شبہ ہونا یہ ساری اس مرض کی علامات ہیں۔

اس مرض میں عورت کے رحم کے اندر مٹر کے دانے سے لیکر ایک چھوٹے آلو جتنی رسولیاں بن جاتی ہیں ۔ اگر رسولی سادہ ہو ایک مقام تک بڑھ کر رک جاتی ہے اور اگر سرطان زدہ یعنی کینسر زدہ ہوں تو یہ اپنے مقام پیدائش کے ارد گرد کو بھی متاثر کردیتی ہیں۔

شدید علامات میں پیٹ کے نچلے حصے میں بچہ دانی کو مسلتے اور کوٹتے ہوئے چبھن دار درد کبھی پیٹ کے ایک حصے میں یاسارے پیٹ میں یا ریڑھ کی ہڈی تک چلاجاتا ہے اور کبھی مقعد سے رانوں کی طرف پھیلتا ہے،جس کے باعث بعض خواتین ٹانگوں میں اکڑن محسوس کرتی ہیں۔ کئی خواتین کو متلی، قے اور اسہال بھی ہوتے رہتے ہیں۔ حیض شرو ع ہونے سے پہلے درد میں شدت ہوتی ہے جو رفتہ رفتہ کم ہوکر بالکل ختم ہوجاتا ہے۔

آج ہم بات کریں خواتین میں ایسی بیماری جو ان کی پریشانی کا سبب بنتی ہے ۔ اگر ایسا مسئلہ دیکھنے میں آجاتا رحم کی رسولی پانی کی تھیلی کا جن کیوجہ سے کچھ بہن بیٹیاں بہت مشکل کا شکار ہوجاتی ہیں۔ہمیں تین چیزوں کی ضرورت ہوگی ۔جڑپان60گرام ،مگھاں 60گرام، زنجبیل 40گرام لینےہونگے ۔ ان تینوں چیزوں کو آپ نے اتنا باریک کرنا ہے اس کو بلکل باریک کرکے چھان لیں گے

تو آپ کی دوا تیار ہوجائیگی اگر مقدار خوراک کی بات کریں تو ایک سے دو گرام اس کی مقدار خوراک ہے کچھ خواتین ہوتی ہیں جن کا وزن نارمل ہوتا ہے اور کچھ خواتین ہوتی ہیں ان وزن زیادہ ہوتا ہے ۔ جن کا وزن زیادہ ہے وہ اس کو دو گرام لیں گی ۔ اس کو آپ نے نیم گرام پانی کے ساتھ صبح وشام استعمال کرنا ہے ۔ یہ ایک مہینہ دو مہینہ لگ جائینگے کہ اس مرض سے نجات حاصل کرسکیں گے ۔

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.