کوے ہر گھر میں اگر دولت اور م و ت کی خبر کیسے پہنچاتے ہیں؟

صدیوں سے سائنسدان پرندوں کو احمق سمجھتے تھے ۔ مگر ایک پرندہ جو انہیں ہمیشہ سے حیران کرتا آرہا ہے۔ وہ کوا ہے۔ گذشتہ چند برسوں کے دوران سائنسدانوں نے جانا کہ کوے چیزے بنانا، ذخیرہ کرنے اور ٹولز کی نگہداشت کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ وہ گنتی بھی کرسکتے ہیں ۔ اور نفس پر ضبط کی مشق بھی کرسکتے ہیں۔ وہ کھیلنا پسند کرتے ہیں۔او راپنے اندر بہت زیادہ کینہ بھی رکھتے ہیں۔ آج آپ کو کوے کےساتھ چند دلچپسپ باتیں بتانے والے ہیں۔ وہ نہ صرف مشہور ہیں۔ بلکہ لو گ پورا یقین رکھتے ہیں ۔ اور یہ بھی مانا جاتا ہے کہ کوے دولت اور زندگی کا اشارہ بھی دیتے ہیں۔ کوے کے ساتھ جڑی یہ باتیں کیا ہیں۔ اور حقیقت کیا ہے؟کوا بہت چالاک پرندہ ہے ۔ اس کی نظر بہت تیزہوتی ہے۔جو اسے خوراک اور دشمنوں سے آگاہ کرتی ہے۔

یہ انسانوں سے خاص طور پر محتاط رہتا ہے اور خطرے کی صورت میں کائیں کائیں کرکے آسمان سر پر اٹھا لیتا ہے۔ اور اپنے دوسرے ساتھی بھی بلا لیتا ہے۔ جو حفاظت کےلیے ادھر ادھر چکر لگاتے رہتے ہیں۔ کوا اپنے بچوں او رانڈوں کی بہت حفاظت کرتا ہے ۔ اگر کہیں چیل یا بلی نظر آجائے تو کوے اس پر کود پڑتے ہیں۔ اور اس کو وہاں سے بھاگنے پر مجبور کردیتے ہیں۔ اگر ان گھونسلوں سے انڈے نکالنے کی کوشش کی جائے تو یہ انسان کے سر پر ٹھونگیں مارمار کر خ ون نکال دیتے ہیں۔ اس لیے کوے کو سب سے چالا ک پرندہ مانا جاتا ہے ۔ پرندوں کے بارے میں کہا جاتا ہے۔ کہ اپنے ساتھی کی لاش پر ماتم کرتے ہوئے ہوا میں اڑتے ہوئے یہ کوے نیچے کے منظر کبھی نہیں بھولتے ۔

اور ان کے مرنے والی ساتھی کےپاس موجود انسان یا جانور کا چہرہ انہیں ہمیشہ یا درہتا ہے ۔ اور وہ خود اس سے ہمیشہ بچنے کی کوشش کرتے رہتے ہیں ۔ یا در ہے کہ کوا وہ پرندہ ہے جس نے انسان کو مردہ دفن کرنا سکھایا ہے۔ انسا ن کی لاش کو مٹی میں دفنانے سکھایا۔ کوے کی یہ فطرت ہے کہ جب اس کا ساتھی مرجاتا ہے تو سب کوے اس جگہ پر جمع ہو کر جہاں اس کی ساتھی کی لاش پڑی ہو۔ شورمچاتے رہتے ہیں۔ اپنے ساتھی کے مرنے پر سوگوار اور ماتم کا اظہار کرتے ہیں۔ اب آپ کو کوے کے ساتھ کیا باتیں مشہور ہیں۔ کہتے ہیں کہ کوے میں ایسی طاقت ہوتی ہے کہ وہ آنے والے وقت کو پہلے سے جان لیتا ہے کہاجاتا ہے اگر کوے مل کر آپ کے گھر کی چھت پر یا دیوار پر آکر ایک دوسرے جھگڑنے پڑجائیں

تو یا د رکھیں کہ اس گھر پر کوئی برا وقت آنا والا ہے۔ کیونکہ ان کا جھگڑنا اچھا نہیں سمجھا جاتا ۔ اس لیے چاہیے کہ صدقہ وخیرات کریں۔ اگر دوپہر سے پہلے کو ا آپ کے گھر کی دیوار یا چھت پر اکیلا بولنا شروع کردے ۔ تو سمجھیں کہ آنے والے دنوںمیں آ پ کے لیے خوشخبری ہے ۔ آپ کی دولت میں اضافہ ہوسکتا ہے۔ آپ کے روزگار میں اضافہ ہوسکتا ہے۔ یا درہے کہ ہمارے پیارے نبی پاک ﷺ نے تمام غیر اسلامی رسومات کو ترک کرکے مسلمانوں کو نئے سرے سے زندگی گزارنے کے طریقے سکھائے۔ اور اپنی زندگی لوگوں کے لیے وقف کرنے کا درس دیا۔ لیکن آج کے اس برق رفتا ر کے دور میں انسان نے پھر دور جہالت کی یا دتازہ کردی ہے ۔ انسان اس قدر توہم پرستی کا شکار ہوچکا ہے کہ اس نے غیر شرعی عادات اپنےاندر سمو لیے ہیں۔

اور اس سے باہر آنے کا نام ہی نہیں لے رہا۔ کسی خاص درخت کوچھونےسےلے کر سیڑھی کے گرد گھومنے تک تقریباً ہر فرد کوئی نہ کوئی توہم پرستانہ عادت ضرور رکھتا ہے۔ کیونکہ اسے یقین ہوتا ہے کہ یہ عادت خوش بختی لائے اور بدبختی بھگائے گی۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ بیشتر عادات عجیب بلکہ مضحکہ خیز ۔ بلکہ مضحکہ خیز ہوتی ہیں۔ اور ضرور ی نہیں وہ ہمیشہ ایسی ہی خوشیوں او رمسرت کا سامان مہیا کریں ۔ ایسی بہت سی مثالیں موجود ہیں۔ جنہیں عام انسانوں کے ساتھ ساتھ کامیاب اور پڑھے لکھے لوگوں نے بھی اپنے اوپر لازم وملزوم کرلیا ہے۔ اور انہوں نے اس کو حقیقت کا روپ دے دیا ہے۔ اس بات کو سمجھنے اور اس سے بچنے کی ضرورت ہے ۔

آخر میں آپ کو کوے کے بارے میں ایک دلچپسپ بات بھی بتاتے چلیں جو عقاب کو تنگ کرسکتا ہے۔ یہ پرندوں کے بادشاہ عقاب کی پشت پربیٹھ جاتا ہے اور اپنی چونچ سے اس کی گردن پر کاٹتا ہے۔ جبکہ کوے سے زیادہ طاقت ور عقاب کوے کا مقابلہ کرنے میں اور وقت سرف نہیں کرتا۔ بلکہ وہ اپنے پر کھولتا ہے۔ اور آسمان کی طرف اونچائی اونچی اڑان بھرنا شروع کردیتاہے۔ عقاب کی پرواز جتنی بلند ہوتی جاتی ہے کوے کی اڑان اتنی ہی مشکل ہوتی ہے۔ بالآ خر آکسیجن کی کمی کی وجہ سے نیچے گر جاتا ہے۔

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.