مثانہ انتہائی طاقت ور اور مضبوط ہوجائے گا پیشاب کے قطروں کاعلاج ، پیشاب کا بار بار آنا بالکل ختم قطروں کو ہمیشہ کےلیے بھو ل جائیں

پیشا ب کے ساتھ قطرے آنا دراصل مثانے کی کمزوری کی وجہ ہوسکتی ہے۔ اور کچھ لوگ ایسے بھی ہوتے ہیں جن سے پیشاب کنٹرول نہیں ہوتا۔ یاپیشاب زیادہ آتا ہے۔ اسکی کئی وجوہات ہوسکتی ہیں۔ یہ بھی ہوسکتا ہے یہ جو سفید پانی ہے یا منی ہو ایسا بھی ہوسکتا ہے جو سفید پانی پیشاب کے ساتھ آتا ہے۔ وہ کسی اندرونی زخم کا پیپ ہو۔ اس لیے اس کی بہت سی وجوہات ہوسکتی ہیں ۔ سب سے پہلے آپ اپنے مرض کو پہنچاننے کی کوشش کریں۔

جب آپ اپنے مرض کو اچھی طرح سے جان جائیں گے۔ اس کی وجوہات کا پتہ چل جائے گا۔ پھر اس کا علاج کرنا بہت ہی آسان ہوجاتا ہے۔ اس کا علاج بہت ہی آسان اور سادہ ہے۔ اس کےلیے آپ نے سو گرام انار کے چھلکے لینے ہیں۔ جو آپ کو کسی بھی پنسار سٹور سے آسانی سے مل جائے گا۔ انار کے چھلکوں اتنا خشک کریں کہ اس میں نمی بالکل ختم ہوجائے ۔ اور ان کو اچھی طرح پیس کر ان کاپاؤڈر بنا لیں۔ اس کے بعد آپ نے خالص شہد لینا ہے۔ دو سو گرام خالص شہد میں آپ نے سو گرام انا ر کے چھلکوں کا پاؤڈر ڈال کر ان کو اچھی طر ح سے مکس کرکے ایک اچھی سی معجون بنانی ہے۔

یہ معجون آپ نے صبح و شام ایک چائے چمچ پانی کے ساتھ استعمال کرنی ہے۔ اس کے مسلسل استعمال سے آپ کا مثانہ مضبو ط ہوگا۔ اور اس کے ساتھ ساتھ مثانہ سے متعلق جتنی بھی بیماریاں ہیں انشاءاللہ ! اللہ پاک کے فضل سے وہ سب درو ہوجائیں گی اور وہ ختم ہوجائیں گی۔ ہر وقت پیشاب کی خواہش رہنا یا یوآئی ٹی کی عام علامت ہے جس میں آپ کو ہر وقت ایسا محسو س ہوتا ہے کہ پیشاب آرہا ہے چاہے آپ ابھی بھی باتھ روم سے ہی ہوکر آئیں ہوں۔ آپ کو اس حوالے سے ایمرجینسی کا احساس بھی ہوسکتا ہے۔ یعنی ابھی فوراً جانا ضروری ہے۔ اگر واش روم جائیں تو پیشا ب بہت کم آتا ہے۔ آپ کو محسوس ہوتا ہے مزید کرنا ہے۔ لیکن کوشش کے باوجود نہ ہوسکے۔ یا آپ کو اطمینان نہ ہو۔ یا اس بیماری کے واش روم جانے پر آپ کوجلن کا احساس ہو سکتا ہے۔ آپ کو ایسے لگتا ہے کہ یہ کام انتہائی تکلیف دہ ہے۔

اس کے علاوہ آپ کو درد بھی ہوسکتاہے۔ دونوں صورتوں میں یہ خرابی کی علامت ہوتاہے۔ یو ٹی آئی کےپیشاب میں اکثر خون آتا ہے۔ لیکن ضروری نہیں ہےکہ ہر کسی کے ساتھ ایسا ہو۔ اسی طرح وہ دیکھنے میں دھندلہ بھی ہوسکتاہے۔ مثانے میں کسی بھی قسم کے انفیکشن میں پیشا ب کی بد بو بہت بری ہوتی ہے۔ اگر آپ کو پیشاب کی بدبو کے ساتھ اوپر دی گئی معلومات میں یو ٹی آئی کی مرض ہوسکتا ہے۔ اس صورت میں ڈاکٹر سے رجو ع کریں۔ اور اس کی ہدایت کے مطابق اس کا ٹیسٹ بھی کروا لیں۔ پیشاب کی رنگت بہت کچھ بتا سکتی ہے۔ بشمول پیشاب کی نالی میں انفیکشن ۔ اگریہ رنگت زرد یازرد سے ہٹ کر کچھ اور ہوتو یہ فکر مندی کی علامت ہے۔ سرخ اور بھوری رنگت انفیکشن کی علامت ہے۔ لیکن پہلے آپ یہ دیکھ لیں۔ کہ آپ نے ایسی غذا تو نہیں کھائی۔

جس کی رنگت گلابی،نارنجی یا سرخ ہو۔ پیشا ب کی نالی میں سوزش دراصل مثانے میں سوزش کی وجہ سے ہوتی ہے۔ کسی بھی طرح انفیکشن کے نتیجے میں جب جسم کو اندازہ ہوتاہے۔ کہ کچھ غلط ہورہاہے۔ اور فوراً ورم پیدا ہونے لگتا ہے۔ حفاظتی تدابیر کے ساتھ وہ خون کے سفید خلیات کو خارج کرتا رہتا ہے۔ جس کے نتیجےمیں تھکاوٹ کا احساس ہوتاہے۔ دیگر علامات کے ساتھ بخار بھی پیشاب کی نالی میں سوزش کی شدت میں اضافے اور اس انفیکشن کا گردوں کی جانب پھیلنے کی جانب اشارہ کرتا ہے۔ اگر ایک سو ایک زیادہ کا بخار ہویا ٹھنڈک محسوس ہوتی ہو۔ یا را ت کو سوتے ہوئے جسم پسینہ میں بھیگ جاتا ہو۔ تو فوراً طور پر اپنے طبی معالج سے ضرور مشورہ کریں۔ اور اس چیز کا ٹیسٹ کروانا چاہیے۔ یہ وہ علامات ہیں جو پیشاب کی نالی میں سوزش کی وجہ بن سکتی ہیں۔ اگر آپ میں یہ علامات پائی جائیں۔ تو اپنے یورین کا لازمی ٹیسٹ کروائیں۔

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.