ح م ل ٹھہرانے کے لئے کتنے جراثیم ہونے چاہئیں؟

اکثر مرد حضرات کے ہاں شادی کے بعد اولاد نہیں ہورہی ہوتی اور جب وہ اپنے جراثیم کا ٹیسٹ کرواتے ہیں تو انہیں پتہ لگتا ہے کہ ان کے جراثیم کمزور ہیں وہ مردہ ہیں اور اس کے اندر پس سیلز کا مسئلہ بھی پایا جاتا ہے ۔جو جراثیم کی کمی ہوتی ہے کوئی اتنا بڑا مسئلہ نہیں ہوتا اس کا حل آسانی سے

ہوجاتا ہے مگر شرط ایک ہوتی ہے کہ آپ نے دوائی کا اچھا استعمال کرنا ہے اور کسی اچھی جگہ سے دوائی لینی ہے اکثر لوگ اس بیماری کو ختم کرنے کے لئے مختلف طرح کے گھریلو ٹوٹکوں پر عمل کرتے ہیں جو کہ بالکل بھی کارآمد ثابت نہیں ہوتی کیونکہ جب تک آپ اس کا پراپر علاج نہیں کروائیں گے یہ مسئلہ آپ کی جان نہیں چھوڑے گا اور جب تک یہ آپ کی جان نہیں چھوڑے گا تو آپ کی عورت کے ح م ل بھی نہیں ٹھہرے گا سب سے پہلے آپ نے کیا کرنا ہے کہ جس کی شادی کو دو تین سال یا اتنا عرصہ گزر چکا ہے آپ نے جراثیم کا ٹیسٹ کروانا ہے جو کہ کسی بھی لیبارٹری سے ہوجائے گا اور دو یا تین دن پہلے وائیف کے پاس بالکل نہیں جانا یعنی دو یا تین دن پہلے کا گیپ ہونا لازمی ہے۔مردوں میں مخصوص کمزوری کے

مسئلے کی بڑی وجہ دوران خون کی خرابی ہوتی ہے اور یہ مسئلہ بسااوقات مہنگے علاج سے بھی رفع نہیں ہوتا تاہم اب ترک سائنسدانوں نے ہر گھر میں پائی جانے والی ایک عام سی گولی کے ذریعے اس کا انتہائی آسان علاج بتا دیا ہے۔خبر کے مطابق یہ گولی اسپرین ہےجس کے متعلق استنبول کی میڈی پول یونیورسٹی کے سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ اگر مردانہ کمزوری کے مسئلے سے دوچار مرد اسپرین کی روزانہ ایک گولی مسلسل6ہفتے تک کھائیں تو انہیں اس مسئلے سے نجات مل جائے گی۔رپورٹ کے مطابق سائنسدانوں نے اس تحقیق میں 184ایسے مردوں پر تجربات کیے جن کی عمراوسطاً48سال تھی اور وہ اس مرض کا شکار تھے۔ انہیں دو گروپوں میں تقسیم کرکے سائنسدانوں نے ایک گروپ کو 6ہفتے تک روزانہ اسپرین کی ایک گولی کھلائی

جبکہ دوسرے گروپ کو نقلی گولی دی جاتی رہی ۔ اس سے دوسرے گروپ کے لوگوں کو بھی یہ احساس رہتا ہے کہ وہ بھی گولی کھا رہے ہیں لیکن گولی کا کوئی منفی یا مثبت اثر نہیں ہوتا۔تقریباً چھ ہفتے بعد ماہرین نے دوبارہ ان کے مرض کے تجزیات کیے تو حیران کن نتائج سامنے آئے۔ نقلی گولی کھانے والوں کو کوئی فرق نہیں پڑا تھا جبکہ جو لوگ روزانہ اسپرین کی گولی کھا رہے تھے ان کا 50سے 88.3فیصد تک مرض ختم ہو گیا تھا۔ جنسی تقویت کی گولی ویاگرا کھانے سے یہ شرح 48سے 81فیصد ہوتی ہے۔ چنانچہ اس تحقیق میں اسپرین کے نتائج ویاگرا سے بھی بہترسامنے آئے۔تحقیقاتی ٹیم کے سربراہ ڈاکٹر ذکی بائراکتر کا کہنا تھا کہ بعض لوگوں کے خون میں موجود پلیٹ لیٹس بہت بڑے ہوتے ہیں جو دوران خون میں رکاوٹ بنتے ہیں۔اسپرین کی گولی ان سمیت دوران خون میں رکاوٹ کی دیگر وجوہات کو دور کر دیتی ہے جس کے نتیجے میں مردوں کا یہ جنسی مسئلہ حل ہو جاتا ہے۔اللہ ہم سب کا حامی وناصر ہو ۔آمین

Sharing is caring!

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.