صرف 7دن لگاتار خالی پیٹ گاجر کھالو پھر سے جوان ہوجاؤ گے

گاجر کاٹا جائے تو یہ اندر سے انسانی آنکھ کی پتلی سے مشابہہ رکھتی ہے

یہ عجیب بات شاید آپ کو معلوم نہ ہو۔ کیونکہ کچھ پھل اور سبزیاں اپنی شکل میں انسانی جسم کے ان پارٹس سے مشابہت رکھتے ہیں۔ جن باڈی پارٹس کےلیے ان کا استعمال سب سے زیادہ مفید ہے۔ حکیم سید مجاہد محمود برکاتی کے بیٹے نے بتایا کہ میرے والد کی وفات اٹھاسی سال کی عمر میں ہوئی ۔ وہ صحت مند تھے۔ آنکھیں بچپن سے کمزور تھیں۔ چشمہ لگا تے تھے ۔ اسی سال کی عمر میں اچانک ان کی بینائی چلی گئی ۔ نظر آنا بند ہوگیا۔ ہم نے پاکستا ن کے بڑے بڑے آئی اسپیشلسٹ کو دکھایا۔ ان کی رپورٹ امریکہ تک پہنچائیں۔ لیکن ہر طرف سے م ایوسی کا اظہار ہوا۔ اس کے باوجو دابا جان مایوس نہیں تھے۔ مگر اس بات کا ان کو بہت افسو س تھا کہ اب وہ مطالعہ نہیں کرسکتے ۔ انہوں نےاپنا علاج خود کیا۔

دیگر دوائیوں کے ساتھ گاجر کا جوس باقاعدگی سے میری والدہ انہیں دیا کرتی تھیں۔ اللہ کی قدرت کی شان دیکھیں کہ کچھ عرصے بعد ان کی آنکھوں کی بینائی واپس آگئی۔ میں انہیں آئی اسپیشلسٹ کے پا س لے گیا۔ انہوں نے بڑی بیزاری سے کہا میں نے آپ سے کہاتھا کہ ان کی بینائی واپس نہیں آئے گی۔ اس کے جواب میرے والد نے کہا ڈاکٹرصاحب مجھے نظر آرہا ہے۔ میں بغیر سہارے کے آیا ہوں۔ ڈاکٹر نے کہا یہ کیسے ہوسکتا ہے۔ میرے والد نے کہا میں نےاپنی دواؤں کے ساتھ گاجر کا جوس استعما ل کیا ہو۔ شاید یہ اسی کا کمال ہے۔ گاجر ہمارے لیے بہترین غذا ہے۔ جس میں موجود کیروٹین نامی ماد ہ جو وٹامن اے کی ابتدائی شکل ہوتا ہے۔ یہ سبزی کے انگریزی نام کیرٹس سے ہی نکلا ہے یہی کیروٹین ہمارے جسم میں جا کر قدرتی نظام کے تحت جگر کے ذریعے وٹامن اے کی صورت اختیار کرلیتا ہے۔

ہم سب جانتے ہیں کہ جسم میں وٹامن اے کی کمی بینائی کو متاثر کرتی ہے۔ اور اگر یہ کمی زیادہ ہوجائے تو رات کو دکھائی دینا مشکل اور بعض اوقات بند ہوجاتا ہے۔ جسے نائیٹ بلائینڈ نس کہتے ہیں۔ وٹامن اے ہمارے آنکھوں کےپٹھوں کو بھی مضبوط بناتا ہے جبکہ گاجر میں موجود بیٹاکیروٹین آنکھوں کی تمام بیماریوں ، نظر کی کمزور ی ، موتیا اور رات کے اندھےپن سے حفاظت کرتا ہے۔ اس لیے زیادہ مطالعہ کرنے والے لوگوں کو گاجر کو اپنی غذا کا حصہ ضرور بنانا چاہیے۔ ایک سواٹھائیس گرا م یا ایک کپ باریک کٹی ہوئی یادو سے تین درمیانے سائز کی گاجروں میں ہمارے جسم کو جتنے وٹامن اے کی روزانہ ضرورت ہوتی ہے۔ اس کا چار سو اٹھائیس فیصد وٹامن اے ، اکیس فیصد وٹامن کے ، تیرہ فیصد وٹامن سی ، نو فیصد وٹامن بی سکس، چار فیصد وٹامن اے اور چھ فیصد وٹامن تھیا من

نیاسن اور فولیٹ جیسے غذائی اجزاء پائے جاتے ہیں۔ اٹلی ایک تحقیق کے مطابق گاجریں کھانے والے لوگوں کو نہ کھانے والے لوگوں کی نسبت دل کے دورے کا امکان تیئس فیصد تک کم ہوگیا۔ گاجر کی طرح اس کے بیج بھی بہت کام آتے ہیں۔ یہ طاقت بخش غذا کے طور پر استعمال کیے جاتے ہیں۔ اور اعصا ب کو طاقت دیتے ہیں ایک چھٹانک گاجر کے بیج صاف کرکے ، پیس لیں۔ اور ہموزن پسی ہوئی چینی مکس کرکے رکھ لیں۔ اس سفوف کا یک چائے کا چمچ دودھ کے ساتھ کھانے سے پیشاب کھل کرآتا ہے ۔ اورمردوں کے مثانے کے غدود پر دباؤ کم ہوجاتا ہے۔ اس کے علاوہ فائبرز خوراک کو ہضم کرنے اور فضلہ کوخارج کرنے میں انتہائی اہم کردار ادا کرتا ہے۔

ایسے کھانے جس میں فائبر ز کی مقدار زیادہ ہو ۔ ہماری آنتوں کےلیے انتہائی مفید ہیں۔ اور ہمیں آنتوں کے کینر سے بھی محفوظ رکھتے ہیں۔ گاجر جسم کو قوت اور طاقت دینے کے ساتھ دل کو بھی تقویت دیتی ہے۔ معدے کی تیزابیت دور کرتی ہے۔ خ ون کی کمی کا مؤثر علاج ہے۔ دماغی پٹھوں اور آنکھوں کی کمزوری ، پیشاب کی کمی اور جگر کی گرمی دورکرتی ہے۔ اور یرقان میں بھی فائدہ مند ثابت ہوتی ہے۔ یرقان کے لیے گاجر کا پانی نکال کر اس میں مصری ملا لیں۔ تقریباً دس تولہ روزانہ صبح وشام یرقان کےمریض کو پلائیں۔ انشاءاللہ ! اللہ نے چاہا تو مرض سے نجات مل جائےگی۔

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.