خود کو سانپ سے ڈسوا کے مرنے والی لڑکی۔۔ جانیے مصر کی اس خوبصورت ملکہ کے بارے میں چند معلومات

دنیا میں ایسے کئی مشہور لوگ گزرے ہیں جو اپنی خوبصورتی کی وجہ سے دنیا بھر میں آگ لگا گئے ہیں۔ ان مشہور شخصیات میں خواتین کا نام بھی آتا ہے۔

مصر کی ساتوی ملکہ کلیوپترا کا شمار بھی انہی خوبصورت خواتین میں ہوتا ہے جن کی زلفوں کے سب آسیر تھے اور سب ان کے دیوانے تھے۔

کلیوپترا کو تاریخ مختلف طور پر یاد کرتی ہے، کلیوپترا تاریخ کی وہ ملکہ تھیں جنہیں فلموں اور ڈراموں میں آج بھی یاد کیا جاتا ہے، ٹولمک سوتر بارہ، جو کہ مصر کے بادشاہ تھے اور کلیوپترا کے والد بھی تھے، ان کی وفات کے بعد کلیوپترا ملکہ بنی تھیں، ایک یہ بھی وجہ ہے کہ انہیں “باپ کی موت پر ملکہ بنیں” کے طور پر یاد کیا جاتا ہے۔ کلیوپترا مقدونیہ خاندان کی آخری آٹھویں ملکہ تھیں کیونکہ انہوں نے خودکشی کر لی تھی۔ حسن کی دیوی، بے وفائی کی علامت کے طور پریاد کی جانے والی ملکہ نے روم کے حکمرانوں کو بھی اپنے زلفوں کے جال میں پھنسا لیا تھا۔

کلیوپترا کا اصل نام کلیوپترا دا سیوینتھ فلیوپتر تھا، کلیوپترا کا نام مصر میں ملکہ کے لیے استعمال کیا جاتا تھا، جیسے فرعون بادشاہ کے لیے استعمال کیا جاتا تھا۔ اکثر لوگ سمجھ ہی نہیں پاتے ہیں کہ کلیوپترا یونانی تھیں یا مصری؟ دراصل کلیوپترا کے خاندان کا تعلق یونان سے تھا، لیکن ان کا خاندان مصر پر حکمرانی کی غرض سے آیا تھا اور 300 سالوں سے یہیں کا ہو کر رہ گیا تھا۔ وہ اپنے خاندان کی پہلی خاتون تھیں جنہوں نے مصری زبان سیکھی تھی۔

کلیوپترا کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ ناجائز خون تھا، لیکن قدیم مصر میں یہ روایت تھی کہ بہن بھائیوں کی آپس میں شادیاں کرائی جاتی تھیں تاکہ خون لائن خالص رہ سکے۔ جبکہ ایک تاثر یہ بھی ہے کہ کلیوپترا کے ماں باپ بھی بھائی بہن ہی تھے۔

ہو سکتا ہے یہ بات سن کر آج کے دور میں عجیب لگے، مگر اس دور میں یہ روایت تھی کہ بھائی اور بہن کی شادی ضروری ہے۔ یہی وجہ تھی کہ کلیوپترا نے بھی اپنے دونوں بھائیوں سے شادی کی تھی۔ بڑے بھائی کے انتقال کے بعد کلیوپترا نے اپنے چھوٹے بھائی سے بھی شادی کی تھی۔ بڑے بھائی سے کلیوپترا کے بچے بھی تھے۔ جبکہ چھوٹے بھائی سے شادی کے وقت کلیوپترا کی عمر 18 سال جبکہ بھائی کی عمر 13

تھی

بھائیوں سے شادی کا ایک مقصد یہ بھی تھا کہ ان سے شادی کر کے حکموت میں ان کا حصہ دار بن سکیں۔ مورخین کے مطابق کلیوپترا کی آواز اور اس کی ادائیں اس کی شخصیت کو چار چاند لگاتی تھیں، یہی وجہ تھی کہ وہ ہر کسی کو اپنے حسن میں گرفتار کر لیتی تھی۔

رومی بادشاہ جولئیس سیزر جب مصر آیا اور کلیوپترا اور اس کے بھائی کے درمیان جاری جنگ کے خاتمے کے حوالے سے کوششیں کرنے لگا، اسے تب ہی کلیوپترا کے حسن کا اندازہ ہو گیا تھا، لیکن کچھ کہہ نہیں سکا تھا۔ جبکہ کلیوپترا بھی رومی بادشاہ سے ملنا چاہتی تھی اور کسی بڑی طاقت کے بل بوتے پر اپنے بھائی کو شکست دینا چاہتی تھی، اگرچہ اسے اس وقت اندازہ نہیں تھا کہ رومی بادشاہ بھی اس کا دیوانہ ہے۔ جیسے ہی کلیوپترا کو اندازہ ہوا تو اس نے چال چلی اور کالین میں خود کو رول کر کے اپنے بندے کے ذریعے رومی بادشاہ کے محل تک پہنچ گئی، اسے اپنی اداؤں کے ذریعے مائل کرنے میں کامیاب ہو گئی۔ کلیوپترا کے اس انداز نے اسے سب میں مقبول کر دیا تھا۔ اسی طرح اپنے دوسرے محبوب انتھنی کے پاس جب وہ گئیں تو اپنی اس کشتی میں سوار تھیں جو کہ سونے کی بنی تھی۔ وہ بالکل دیوی کی طرح معلوم ہو رہی تھیں۔ اس منظر نے انتھنی کو کلیوپترا کا دیوانہ بنا دیا تھا۔

ریاضی، فلسفی، اور فلکیات سمیت کئی مضامین کی تعلیم حاصل کرنے والی کلیوپترا 7 زبانوں کو جانتی تھیں، یہی وجہ تھی کہ وہ ایک قابل حکمران کے طور پر سامنے آئی تھیں۔ جبکہ یہ وہی ملکہ تھی، جس نے مصر میں قحط کے دنوں میں ٹیکسز معاف کیے تھے۔

بھائی اور بہن چونکہ حصہ دار تھے، اور کلیوپترا حکومت پر قبضہ کرنا چاہتی تھی، یہی وجہ تھی کہ اس نے ملک میں خانہ جنگی کرا کر رومی بادشاہ سیزر کو اپنے بھائی کی حکومت کے خلاف کر وا دیا۔ اس طرح کلیوپترا کا بھائی جان بچا کر دریا نیل میں کودا مگر ڈوب کر جان گنوا بیٹھا۔ اسی طرح چھوٹے بھائی سے شادی کی جسے بعد میں قتل کر وا دیا تھا۔ چھوٹی بہن بھی کلیوپترا کے غیب و غضب کا نشانہ بن کر قتل ہوئی تھی۔ کلیوپترا اور رومن بادشاہ نے اگرچہ شادی نہیں کی تھی، مگر کافی قریب ہو چکے تھے، یہی وجہ تھی جو کہ رومن سلطنت کے دیگر ممبران کو ناگوار گزر رہی تھی اور سلطنت کے لیے آگے چل کر مسائل کھڑی کر سکتی تھی۔ چونکہ سیزر اور کلیوپترا کا ایک بیٹا بھی تھا، اسی لیے رومن اشرافیہ کا خیال تھا کہ وہ ہی آگے چل کر حکمرانی کرے گا۔ جو انہیں کسی طور پر بھی قبول نہیں تھا۔ چونکہ رومن اشرافیہ عورت کی حکمرانی کو بھی پسند نہیں کرتے تھے اور کلیوپترا کو بھی۔

اسی لیے انہوں نے سیزر کو قتل کر وا دیا۔ کلیوپترا نے روم سے بھاگ کر واپس مصر میں پناہ لے لی، لیکن روم کی خواتین نے کلیوپترا کا رہن سہن اپنا لیا تھا۔ سیزر کے قتل کے بعد روم میں کئی دھڑے تھے، لیکن ایک دھڑا جو کہ حکمرانی میں آیا ، اس کے سربراہ اینتھنی تھے، جو کہ کلیوپترا کے عشق میں مبتلا تھے۔ یہی وجہ تھی کہ کلیوپترا ایک دفع پھر روم آگئیں۔

دونوں نے شادی کی، دونوں کو شراب نوشی پسند تھی اور راتوں کو چہل قدمی کرنا پسند تھا۔ اگرچہ انتھونی اور کلیوپترا کے اتحاد نے مخالفین کو خوف میں مبتلا کر دیا تھا، مگر یہ بھی حقیقت تھی کہ مخالفین نے حملہ کر کے انہیں پسپا کر دیا تھا۔ جنرل آکٹوین کی فوج ان کا پیچھا کر رہی تھی، اور گرفتار کرنے ہی والی تھی، لیکن دونوں نے گرفتاری کی زلت سے بچنے کے لیے خود کشی کو گلے لگالیا۔

جبکہ کلیوپترا کی موت سے متعلق کئی کہانیاں موجود ہیں۔ کچھ کہتے ہیں کہ ضمیر کے جاگنے پر کلیوپترا نے سانپ سے خود کو ڈسوا کر خودکشی کر لی تھی، جبکہ کچھ کہتے ہیں کہ کلیوپترا نے نئے جنرل سے بھی تعلقات ہموار کرنے کی کوشش کی مگر ناکام رہی اور تھک ہار کر مایوس ہوگئی تھیں۔

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.