”بیویوں کے ساتھ“

Sharing is caring!حضورِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اپنے ازواج کے ساتھ کس طرح بے تکلف، پر لطف اور دوستانہ تعلقات تھے اسکا اندازہ مندرجہٴ ذیل واقعات سے لگایا جاسکتا ہے ۔

ایک مرتبہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عائشہ سے فرمایا کہ : جب تم مجھ سے راضی ہوتی ہو اور جب تم مجھ سے ناراض ہوتی ہو دونوں حالتوں کا علم مجھے ہوجاتا ہے ، حضرت عائشہ نے پوچھا کہ : یا رسول اللہ ! کس طرح علم ہوجاتا ہے ؟ آپ نے فرمایاکہ : جب تم مجھ سے راضی ہوتی ہوتو ”لا وربّ محمد“(محمد کے رب کی قسم )کے الفاظ سے قسم کھاتی ہو، اور جب تم مجھ سے ناراض ہوتی ہوتو ”لا ورب ابراہیم “(ابراہیم کے رب کی قسم )کے الفاظ سے قسم کھاتی ہو ، اس وقت تم میرا نام نہیں لیتیں ؛ بلکہ حضرت ابراہیم کا نام لیتی ہو ، حضرت عائشہ نے فرمایا : (یا رسول اللہ ! میں صرف آپ کا نام چھوڑتی ہوں )نام کے علاوہ کچھ نہیں چھوڑتی (بخاری: کتاب الأدب: باب مایجوز من الھجران من عصی، حدیث: ۶۰۷۸)

ایک مرتبہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم حضرت سودہ کے گھر میں تھے اور ان کی باری کا دن تھا ، حضرت عائشہ نے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے ایک حلوہ پکایا اور حضرت سودہ کے گھر پر لائیں اور لا کر حضوراکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے رکھ دیا ، اور حضرت سودہ بھی سامنے بیٹھی ہوئی تھیں ، ان سے کہا کہ تم بھی کھاوٴ،سودہ کو یہ بات گراں لگی کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا جب میرے یہاں باری کا دن تھا تو پھر یہ حلوہ پکاکر کیوں لائیں؟ اس لیے انھوں نے کھانے سے انکار کردیا ، حضرت عائشہ نے حضرت سودہ کے منہ پر مل دیا، حضرت سودہ نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے شکایت کی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ قرآن میں آیا ہے کہ ”جزاء سےئة سےّئة مثلھا “یعنی اگر تمہارے ساتھ کوئی برائی کرے تو تم بھی بدلے میں اسی کے بقدر برائی کرو ؛ لہٰذا بدلہ میں تم بھی ان کے منہ پر حلوہ مل دو ؛ چنانچہ حضرت سودہ نے تھوڑا سا حلوہ اٹھا کر حضرت عائشہ کے چہرے پر مل دیا ، اب دونوں کے چہرے پر حلوہ ملا ہوا ہے ، یہ سب حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے ہورہا ہے ، اس دوران حضرت عمر کی آمد ہوئی توحضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں کو منہ دھونے کو کہا (مسند ابی یعلی: مسند عائشہ: حدیث:۴۴۷۶، دارالمأمون، دمشق، مجمع الزوائد: باب عشرة النساء: حدیث: ۷۶۸۳)

حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ میں ایک سفر میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھی تو پیدل دوڑ میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہمارا مقابلہ ہوا تو میں جیت گئی اور آگے نکل گئی ، اس کے بعد جب (موٹاپے ) سے میرا جسم بھاری ہوگیا تو (اس زمانے میں بھی ایک دفعہ )ہمارا دوڑ میں مقابلہ ہوا تو آپ جیت گئے ، اس وقت آپ نے فرمایا : یہ تمہاری اس جیت کا جواب ہوگیا(ابوداوٴد: کتاب الجہاد، باب فی السبق علی الرجل، حدیث: ۲۵۷۸)

حضرتِ عائشہ صدیقہ سے روایت ہے بیان کرتی ہیں کہ خدا کی قسم ! میں نے یہ منظر دیکھا ہے کہ (ایک روز )حبشی نابالغ لڑکے مسجد میں نیزہ بازی کر رہے تھے ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کا کھیل دکھانے کے لیے میرے لیے اپنی چادر کا پردہ کر کے میرے حجرے کے دروازے پر کھڑے ہوگئے ، (جو مسجد میں کھلتا تھا)میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے کاندھے درمیان سے ان کا کھیل دیکھتی رہی ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم میری وجہ سے مسلسل کھڑے رہے ؛ یہاں تک کہ( میرا جی بھر گیا )اور میں خود ہی لوٹ آئی۔ (مسلم: باب الرخصة فی اللعبة اللتی لا معصیة فیہ فی ایام العید: حدیث:۸۹۲)

حضرت عائشہ  سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس نکاح ورخصتی کے بعد آپ کے پاس آجانے کے بعد بھی گڑیوں سے کھیلا کرتی تھی اور میرے ساتھ کھیلنے والی میری سہلیاں تھیں ، جب حضرت گھر میں تشریف لاتے تو وہ (آپ کے احترام میں کھیل چھوڑ کر )گھر کے اندر چھپتیں تو آپ ان کو میرے پاس بھجوادیتے اور میرے ساتھ کھیلنے لگتیں۔

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.