عصر کی نماز کا وقت تھا اور وضو کے لیے پانی کی تلاش میں حضرت ابو عبداللہ اند لسی اپنے مریدوں کے ہمراہ ایک کنویں پر آ ئے تو دیکھا۔۔۔

منقول ہے کہ شہر ِ بغداد میں ابو عبداللہ اند لسی نامی ایک بزرگ تھے جو تمام اہلِ عراق کے شیخ تھے انہیں تاجدارِ رسالت ﷺ کی تیس ہزار احادیثِ مبارکہ حفظ تھیں اور وہ تمام روایتوں سے قرائت کر نا جانتے تھے ابو عبداللہ اند لسی ایک مر تبہ اپنے اصحاب کے ساتھ سیرو سیاحت کے لیے روانہ ہو ئے جن میں حضرت سید نا جنید بغدادی اور حضرت سید نا ابو بکر شبلی وغیرہ مشائخ عراق بھی شامل تھے حضرت سید نا ابو بکر شبلی کا بیان ہے کہ ہم ابو عبداللہ اند لسی کی صحبت میں اللہ عزوجل کی عنا یت سے سفر کر تے رہے یہاں تک کہ کفار کے شہروں میں سےا یک شہر میں پہنچے وہاں پہنچ کر ہم نے وضو کے لیے پانی تلاش کیا لیکن نہ مل سکا پانی کی تلاش میں ہم اس شہر میں گھومنے لگے تو اس میں ہم نے گرجے دیکھے جن میں گرجا کے خادم پادری اور تارک الدنیا نصرانی موجود تھے۔

جو کہ بتوں اور صلیبوں کی عبادت کر رہے تھے یہ دیکھ کر ہمیں لوگوں اور ان کی عقلوں پر تعجب ہوا۔آخر کار ہم شہر کے کنارے پر موجود ایک کنویں پر پہنچے اس کنویں پر کئی لڑکیاں موجود تھیں جو پانی نکال رہی تھیں اور ان کے درمیان ایک خوبصورت چہرے والی لڑکی تھی جس کے گلے میں سونے کے ہار تھے اور ان لڑکیوں میں اس سے و جمال والی کوئی نہ تھی اس لڑکی کو دیکھ کر شیخ ابو عبداللہ اند لسی کے چہرے کا رنگ تبدیل ہو گیا اور انہوں نے پوچھا: یہ کس کی بیٹی ہے؟ جواب دیا گیا کہ اس شہر کے بادشاہ کی بیٹی ہے شیخ نے کہا: اس کا باپ اس کا خٰال کیوں نہیں رکھتا اور اسے پانی بھرنے کی تکلیف کیوں دیتا ہے؟ بات چیت کر تے تھے البتہ فرض نماز ادا کر تے تھے۔

تمام مشائخ ان کے سامنے کھڑے تھے اور کسی کو سمجھ نہ پڑتی تھی کہ کیا کیا جا ئے حضرت سید نا ابو بکر شبلی کا بیان ہے کہ آخر میں نے آ گے بڑھ کر عرض کیا یا سیدی آپ کے اصحاب اور مر ید ین تین دن سے آپ کی خاموشی پر متعجب ہیں جب کہ آپ کسی سے بھی کلام نہیں کر رہے میری بات سن کر شیخ ہماری طرف متوجہ ہو ئے اور کہا اے لوگو جان لو کہ میں نے کل جو لڑکی دیکھی تھی میں اس کی محبت میں گرفتار ہو چکا ہوں اور اب میں اس شہر سے نہیں جا سکتا حضرت سید نا ابو بکر شبلی کا بیان ہے کہ میں سیدی آپ اہلِ عراق کے شیخ ہیں تمام شہروں میں زہد و تقویٰ کے حوالے سے مشہور ہیں اور آپ کے مر یدوں کی تعداد بارہ ہزار ہے۔

آپ کو قرآن پاک کی حرمت کا واسطہ ہے کہ ہمیں اور انہیں رسوانہ فر ما ئیں شیخ نے جواب دیا: اے لو گو اس بات کا فیصلہ ہو چکا ہے اور میں عدم کے سمندر میں گر چکا ہوں ولا یت کا لباس مجھ سے چھین لیا گیا ہے اور ہدا یت کے نشا نات مجھ سے اُٹھا لیے گئے ہیں اس کے بعد شیخ نے بہت گر یہ و زاری کی اور کہا: اے لوگو واپس چلے جاؤ کیونکہ قضا و قدر نا فذ ہو چکی ہے شیخ کے معاملے پر ہمیں بہت تعجب ہوا اور ہم نے اللہ عزوجل سے دعا کی کہ ہمیں اپنی خفیہ تدبیر سے پناہ عطا فر ما ئے۔ اس کے بعد ہم بھی روئے اور شیخ بھی روئے یہاں تک کہ مٹی تر ہو گئی۔

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.