”بریسٹ کینسر کی ابتدائی علا مات تشخیص اور بچا ؤ۔“

بر یسٹ کینسر خواتین میں پا یا جانے والا سب سے عام کینسر ہےپاکستان کا شمار ان ایشیائی ممالک میں ہو تا ہے

جہاں خواتین میں بر یسٹ کینسر کی شرح بہت زیادہ ہے یہ ایک قابلِ علاج مرض ہے لیکن بر وقت تشخیص اور صحیح علاج سے ہی اس کا مقابلہ کیا جا سکتا ہے۔ ہر بیماری کی طرح بریسٹ کینسر کی بھی کچھ واضح اور اہم علامات ہیں جو اس بات کی نشاندہی کر تی ہیں کہ بریسٹ کینسر شروع ہو رہا ہے اچھی صحت کے لیے ضروری ہے کہ آپ کو معلوم ہو کہ چھاتی کو کیسے نظر آ نا چاہیے یا محسوس ہو نا چاہیے تا کہ چیسٹ میں ہونے والی کسی بھی غیر معمولی تبدیلی کا پتہ لگا یا جا سکے ۔

ہر سال نوے ہزار کے قریب نئے کیسز کی تشخیص ہو تی ہے جن میں سے چالیس ہزار زندگیاں ضائع ہو جا تی ہیں عام طور پر خواتین اس بات سے بے خبر ہو تی ہیں کہ بر یسٹ کینسر کی علامات کیا ہیں اور اس کی تشخیص کس طرح کی جاتی ہے بریسٹ کینسر کی علا مات کیا ہیں اور اس پر کس طرح سے قابو پا یا جا سکتا ہے ماہرین کے مطابق ہمارے جسم میں پائے جانے والے ضرورت کے مطابق مسلسل تقسیم ہو تے رہتے ہیں اگر یہ سیلز کسی بھی حصے میں ضرورت سے زیادہ تقسیم ہو جا ئیں تو اس حصے میں سیلز کا ایک گروپ بن جا تا ہے جسے سائنس ٹیومر یا رسولی کہتے ہیں یہی سیلز کا گروہ جب بریسٹ میں بن جا ئے تو یہ بریسٹ کینسر کی وجہ بنتا ہے۔

بریسٹ کینسر سے متعلق کافی افواہیں مشہور ہیں تاہم مندرجہ ذیل ابتدائی علامات کے ساتھ اگر آپ کسی بھی تبدیلی کا مشاہدہ کر یں تو فوراً ڈاکٹر سے رجوع کر یں۔ چھاتی کی جلد میں گڑھے یا جھریاں پڑنا چھاتی کے اندر گلٹی کا محسوس ہو نا یا چھاتی کا کسی جگہ سے سخت ہو نا چھاتی کے نپل سے کسی بھی غیر معمولی مواد کا خارج ہونا نپل یا اس کے اردگر د کے حصے میں دانے نکلنا نپل کا مڑ جا نا یا الٹا ہو جا نا بازو یا بغل میں سوجن کا ہو نا چھاتیوں میں مسلسل درد کا اُٹھنا نئی رگوں کا کسی ایک چھاتی پر اُبھر نا لیکن دوسری چھاتی پر نہ اُبھر نا ان علامات کو جاننے کے لیے مہینہ میں ایک مر تبہ اپنی چھاتی کا معائنہ ضرور کر یں۔

مہینہ میں ایک سے زیادہ بار معائنہ نہ کر یں ایسا کرنے سے بہت کم تبدیلی کو محسوس کرنا مشکل ہو جا تا تمام عمر کی خواتین میں بر یسٹ کینسر کا خطرہ موجود ہو تا ہے اور چالیس سال کے بعد یہ مزید بڑھ جاتا ہے لیکن درج ذیل وجوہات کی بنا پر کچھ خواتین میں بر یسٹ کینسر کا خطرہ باقی خواتین سے زیادہ ہو تا ہے ایسے خاندان جن کی خواتین ماضی میں اس مرض کا شکار رہ چکی ہوں مثلاً والدہ دادی نانی اور خالہ وغیرہ ایسی صورت میں اگلی نسلوں میں بھی بر یسٹ کینسر کا خطرہ بڑھ جا تا ہے۔

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.